وقار یونس نے سارو گنگولی کو منہ توڑ جواب دے دیا
سابق کپتان وقار یونس نے سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی کو منہ توڑ جواب دے دیا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق کپتان نے کہا کہ بڑے ایونٹس کیلیے ان فارم بیٹرز اور باولرز کا ہی انتخاب ہوتا ہےان فارم کھلاڑی ہی بہتر نتائج دے سکتا ہےمیرا یہی مشورہ ہوگا کہ ان فارم کھلاڑیوں کا ایشیا کپ اور ورلڈ کپ کیلیے انتخاب ہونا چاہیے،ہمارے زمانے میں اور اس سے پہلے بھی ہم بھارت سے نہیں جیتے تھے،لیکن بھارت سے نہ جیتنے والا پریشر اب اتر چکا ہے،اب بھارت پر پریشر ہوگا،پاک بھارت میچ پر ساری دنیا کی نظریں ہونگی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں اتنا دم ہے کہ یہ بھارت کو چیلنچ کرسکتے ہیں،سارو گنگولی یا کوئی بھی جو مرضی کہتا رہے پاکستان انڈیا گیم سب سے بڑی گیم ہے، پاکستان جو بھارت سے میچ جیتا وہ یکطرفہ میچ تھا، ورلڈ کپ میں جو بھی پاک بھارت میچز ہوئے وہ کافی کلوز رہے ہیں جبکہ 1999ء میں جب انڈیا گئے تو دس سال بعد بھارت گئے تھے۔
وقار یونس کا کہنا تھا کہ بھارت میں کھیلنے کا پریشر ضرور ہوتا ہے لیکن پرفارم کرکے اطمنان بھی ملتا ہے،ہماری ٹیم پریشر برداشت کرسکتی ہے چاہے وہ انڈیا میں کھیل رہے ہو یا دنیا میں کہیں بھی ۔
شاہین شاہ آفریدی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کیخلاف پاکستان بہت اچھا کھیلا ، شاہین کو سووکٹیں لینے پر مبارک باد دیتا ہوں اور سعود شکیل نے جس طرح اننگ کھیلی ہے پاکستان کا مستقبل محفوظ ہے سعود شکیل پاکستان کا مستقبل ہیں پریشر گیم میں ڈبل سنچری کرنا قابل تعریف ہے۔