نئی دہلی؛سیلابی ریلے سے سپریم کورٹ، وزیراعلیٰ ہاؤس اور اسمبلی ہال بھی محفوظ نہیں رہے
نئی دہلی: دریائے جمنا میں پانی کی سطح بلند ہونے پر سیلابی ریلا رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا اور اپنے راستے میں آنے والی ہر شے کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اسمبلی ہال کے بعد اب سیلابی ریلے نے سپریم کورٹ کے اطراف ڈیرے جمالیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جمنا میں پانی کی سطح آج دوپہر 1 بجے 208.62 میٹر تھی کیونکہ ہریانہ میں ہتھنی کنڈ بیراج سے دریا میں پانی چھوڑا جا رہا ہے۔ پانی کی موجودہ سطح اب بھی خطرے کے نشان سے تین میٹر اوپر ہے۔
نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اور مودی سرکار کے سیاسی حریف کی تمام تر اپیلیں کسی کام نہ آئیں اور مودی سرکار کسی صورت عوام کو ریلیف فراہم کرنے پر رضامند نظر نہیں آتی۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی عوام کو سیلابی ریلے میں ڈوبتا چھوڑ کر فرانس کے دورے کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ عوامی دباؤ کے بعد مودی جی نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو ٹیلی فون کیا اور رسمی رپورٹ لی۔
جس پر نئی دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے مرکز میں بی جے پی کی حکومت سے دریا میں پانی چھوڑنے پر احتجاج کرتے ہوئے دریا میں مزید پانی نہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم مرکز میں بی جے پی کی حکومت نے جواب دیا کہ بیراج سے اضافی پانی نہ چھوڑا تو ڈیم ٹوٹ جائے گا۔
یاد رہے کہ نئی دہلی کے اس بار ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کی 15 سالہ حکمرانی کو پچھاڑ دیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار اپنی بدترین شکست کا بدلہ سیلابی پانی دہلی میں چھوڑ کر لے رہی
سیلابی ریلا نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کے گھر، اسمبلی ہال اور سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ بھارتی دارالحکومت میں سرکاری سرگرمیاں اور معمولاتِ زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔
دوسری جانب ریاست ہماچل پردیش میں مزید بارشوں کی وجہ سے ہریانہ بیراج بھر گیا۔ مون سون بارشوں نے پہاڑی ریاست میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ کئی گھر گر گئے اور پل بہہ گئے۔
بھارت بھر میں چار روز سے ہونے والی بارشوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرگئی۔ مقبوضہ کشمیر میں دو بھارتی فوجی سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے جن کی لاشیں مل گئیں۔
[…] نئی دہلی: بھارتی ریاست مہاراشٹر میں مسلسل بارشوں کے بعد پہاڑی علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے 10 افراد ہلاک اور 100 سے زائد لاپتا ہوگئے۔ […]