بلاول بھٹو کا وفاقی حکومت سے مطالبہ: سیلاب متاثرین کی مدد بی آئی ایس پی کے ذریعے کی جائے
وفاق زرعی ایمرجنسی کے تحت آئی ایم ایف سے بات کرے، چیئرمین پیپلز پارٹی
کراچی (ویب ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مالی امداد بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے فراہم کی جائے تاکہ کسانوں اور غریب طبقات تک شفاف اور فوری ریلیف پہنچ سکے۔
وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ماضی میں بھی وفاقی حکومت نے سیلاب اور کووڈ کے دوران بی آئی ایس پی کے ذریعے امداد فراہم کی تھی، اس بار بھی یہی طریقہ اپنایا جائے۔
کسانوں کے لیے خصوصی اقدامات
چیئرمین پی پی نے بتایا کہ سندھ حکومت نے بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے چھوٹے کسانوں کی مدد کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کسانوں کو ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی خریداری میں سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گندم کے کاشتکاروں کی بھرپور مدد کی جائے گی تاکہ ملکی ضروریات پوری ہوں اور گندم درآمد کرنے کی بجائے برآمد کرنے کے قابل ہوں۔
وفاق سے مطالبات
بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ:
-
زرعی ایمرجنسی نافذ کر کے آئی ایم ایف سے بات کرے۔
-
گندم خریداری اور امدادی قیمت کے معاملے پر موقف اپنائے۔
-
کسانوں کو ٹیکس میں ریلیف فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ “یہ پیسہ باہر سے گندم لانے پر خرچ کرنے کے بجائے اپنے کسانوں پر لگایا جائے، یہی ملکی معیشت کے لیے بہتر ہے۔”
عالمی اداروں سے اپیل
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت کو فوری طور پر عالمی امدادی اداروں سے مدد کی اپیل کرنی چاہیے تھی تاکہ ریلیف اور ری ہیبلی ٹیشن کے لیے زیادہ وسائل حاصل ہو سکیں۔
دیگر امور پر اظہار خیال
-
بلاول بھٹو نے پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و تعاون کی علامت ہے۔
-
فلسطین کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ پیش رفت کو انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی کامیابی قرار دیا۔
-
انہوں نے اپنے کزنز کی سیاست میں شمولیت پر کہا کہ “ہم انہیں ویلکم کرتے ہیں، سب مل کر ملک کی خدمت کریں۔”
-
کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ پانی اور سڑکوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
-
بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں کے مسائل کا فوجی حل ممکن نہیں، دہشتگردی سب سے بڑا چیلنج ہے جسے شکست دینا ہوگی۔
-
این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں بلاول نے کہا کہ صوبوں کو مزید وسائل ملنے چاہئیں اور ٹیکس وصولی کا حق صوبوں کے حوالے کیا جائے۔
پنشن کٹوتی کا معاملہ
ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ سندھ حکومت نے پنشن میں کوئی کٹوتی نہیں کی، البتہ چند خامیاں دور کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے اگر بلاول ہاؤس آنا چاہیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔