صحافت چمچہ گری اور دلالی نہیں. تحریر آغاجان ہمدرد

0

صحافت چمچہ گیری اور دلالی نہیں
تحریر: آغاجان ہمدرد
معزز قارئین!
میرا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ خدانخواستہ ہم اہلِ قلم، اہلِ علم یا صحافت کے کسی بھی شعبے سے وابستہ افراد پر تنقید کریں۔ بالکل نہیں! آپ معزز قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں اہلِ قلم کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ قلم کی حرمت، سچائی اور حق گوئی معاشرے کی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بعض نام نہاد صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹوں کے طرزِ عمل کی وجہ سے صحافت جیسے معزز پیشے کو بھی بدنامی کا سامنا ہے۔ یہاں بعض لوگ صحافت کو عوامی مسائل اجاگر کرنے کے بجائے محض تشہیر، چند پیسوں کے عوض اعلانات نشر کرنے، لوگوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے اور سوشل میڈیا، پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنی ذاتی تشہیر کرنے کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ہمارے ہاں ایسے کئی دوست بھی موجود ہیں جو کسی تصویر یا ویڈیو کے لیے مناسب کیپشن تک نہیں لکھ سکتے، نہ ہی کسی موضوع پر مؤثر عنوان دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن خود کو صحافت کا علم بردار سمجھتے ہیں۔ایک مرتبہ مجھے ایک پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں سوشل میڈیا کے چند پیجز سے وابستہ دوست بھی موجود تھے۔ جب پروگرام اختتام پذیر ہوا تو ان پیجز کے نمائندوں نے پروگرام کے منتظمین سے پیسے وصول کیے۔ یہ منظر دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے دریافت کیا کہ انہیں یہ پیسے کس لیے دیے جا رہے ہیں؟ جواب ملا کہ یہ لوگ پروگرام کو اپنے پیجز پر نشر کریں گے اور ان کے ہزاروں فالوورز ہیں۔یہ سن کر میں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ جناب! آپ نے تو اپنے فالوورز کی تعداد کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ کیا صحافت کا مقصد یہی رہ گیا ہے کہ چند پیسوں کے عوض اپنے سامعین اور ناظرین کے اعتماد کو فروخت کر دیا جائے؟صحافت کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ چند پیسوں کے عوض کسی وزیر، سردار، خان، ملک یا بااثر شخصیت کی خوشامد میں چیخ چیخ کر نعرے لگائے جائیں، لیکن جب عوامی مسائل کو حکامِ بالا تک پہنچانے کی باری آئے تو زبانوں پر تالے پڑ جائیں۔صحافت کسی کی قصیدہ خوانی، ذاتی مفادات کے تحفظ یا چند سکوں کے عوض ضمیر فروشی کا نام نہیں۔ صحافت ایک ذمہ داری، ایک مقدس فریضہ اور مظلوم عوام کی ترجمانی کا نام ہے۔
میں ایسے نام نہاد سوشل میڈیا ایکٹیوسٹوں اور صحافت کے دعوے داروں کے طرزِ عمل پر افسوس کرتا ہوں جو بااثر شخصیات کے سامنے قصیدہ خوانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، لیکن اپنے ہی علاقے کے عوام کو درپیش مسائل، محرومیوں، ناانصافیوں اور بنیادی حقوق کی پامالی پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔یاد رکھیں! اصل صحافی وہ نہیں جو طاقتور کے حق میں نعرے لگائے، بلکہ وہ ہے جو مظلوم کی فریاد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچائے۔صحافت کا قلم بکنے کے لیے نہیں، حق لکھنے اور مظلوم کی آواز بلند کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ صحافت کا اصل مقصد طاقتور کی خوشنودی حاصل کرنا نہیں، بلکہ معاشرے میں سچائی، انصاف اور جواب دہی کو فروغ دینا ہے۔
صحافت تنقید برائے اصلاح کا نام ہے، نہ کہ تعریف برائے اشرافیہ!
اس تحریر سے اگرکسی بھی دوست کی دل آزاری ہوئی میں ان سے دلی معزرت خواہ ہوں

Leave A Reply

Your email address will not be published.