بدامنی کا شکار قلعہ عبداللہ. اور امن کے حکومتی دعوے
اداریہ
اداریہ
بدامنی کا شکار قلعہ عبداللہ اور امن کا صوبائی حکومت کے دعوے
ضلع قلعہ عبداللہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک اہم قبائلی اور سرحدی ضلع ہے۔ یہ ضلع نہ صرف جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے بلکہ سیاسی، سماجی اور تجارتی حوالے سے بھی بلوچستان میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ضلع قلعہ عبداللہ کی سرحدیں ہمسایہ ملک افغانستان سے ملتی ہیں، جبکہ یہاں اچکزئی، کاکڑ، ترین اور سید آباد سمیت مختلف قبائل آباد ہیں۔ یہ علاقہ ملکی سیاست میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سابق گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کا آبائی علاقہ بھی یہی ضلع ہے۔مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنی اہمیت رکھنے والا ضلع طویل عرصے سے بدامنی، قتل و غارت، اغوا، فائرنگ اور دیگر ناخوشگوار واقعات کی لپیٹ میں ہے۔ صورتحال اس حد تک تشویشناک ہوچکی ہے کہ ضلع میں آئے روز کسی نہ کسی ناخوشگوار واقعے کی خبر سامنے آتی ہے، جس سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ عوام یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر صوبائی دارالحکومت کے قریب واقع ایک اہم ضلع میں شہری خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے تو حکومت کے امن و امان کے دعوے کس حد تک حقیقت پر مبنی ہیں؟حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال، عزت اور کاروبار کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ کسی بھی علاقے میں پائیدار امن صرف بیانات، اجلاسوں اور وقتی اقدامات سے قائم نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے مؤثر پولیسنگ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، جدید تفتیشی نظام اور مقامی سطح پر مضبوط انتظامی حکمت عملی ضروری ہے۔قلعہ عبداللہ کی جغرافیائی اور سرحدی اہمیت کے پیش نظر یہاں امن و امان کا قیام مزید اہم ہوجاتا ہے۔ بدامنی نہ صرف عام شہریوں کی زندگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ کاروبار، تجارت، زراعت، تعلیم اور نوجوانوں کے مستقبل پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اگر ایک ضلع کے عوام مسلسل خوف کے ماحول میں زندگی گزاریں تو وہاں معاشی اور سماجی ترقی کا تصور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔صوبائی حکومت اگر بلوچستان میں ترقی اور خوشحالی کے دعوے کرتی ہے تو اسے امن و امان کے مسئلے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ ترقی کے منصوبے اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ترقی کی بنیاد امن، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے تحفظ پر قائم ہوتی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ قلعہ عبداللہ میں امن و امان کی صورتحال کا فوری اور غیرجانبدارانہ جائزہ لے، جرائم کے واقعات کی وجوہات کا تعین کرے، پولیس اور انتظامیہ کو وسائل اور جدید سہولیات فراہم کرے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے واضح اور قابلِ عمل حکمت عملی مرتب کرے۔قلعہ عبداللہ کے عوام بھی بلوچستان کے دیگر اضلاع کے عوام کی طرح پرامن زندگی، محفوظ ماحول اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا حق رکھتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ محض دعووں کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرے کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ اور علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔