پشین: کربلا میں مبینہ مقابلہ یا طے شدہ کارروائی؟

0

 

پشین: کربلا میں مبینہ مقابلہ یا طے شدہ کارروائی؟

 

آڈیو لیک، ثالثین اور ہتھیار ڈالنے کے دعووں نے سی ٹی ڈی آپریشن پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے

کوئٹہ (روزنامہ کوژک نیوز) ضلع پشین کے علاقے کربلا میں سی ٹی ڈی اور اشتہاری ملزمان کے درمیان پیش آنے والا مبینہ مقابلہ اب ایک معمول کی کارروائی کے بجائے ایک متنازع واقعہ بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر منظرِ عام پر آنے والی ایک مبینہ آڈیو لیک نے اس کارروائی کی شفافیت، قانونی حیثیت اور طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔تحقیقی ذرائع کے مطابق آڈیو لیک میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ کارروائی کے وقت مقامی ثالثین موقع پر موجود تھے اور ملزمان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے پر بات چیت جاری تھی۔ آڈیو میں سنے جانے والے مکالمے سے تاثر ملتا ہے کہ ملزمان کو زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم اس دوران اچانک فائرنگ شروع ہو گئی۔

یہ سوال اب شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر واقعی ثالثین کی موجودگی میں ہتھیار ڈالنے کی بات ہو رہی تھی تو پھر فائرنگ کیوں اور کس کے حکم پر کی گئی؟ کیا صورتحال اچانک بگڑ گئی یا پھر فیصلہ پہلے سے طے شدہ تھا؟قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی کارروائی میں اگر ملزمان ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہوں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لازم ہے کہ گرفتاری کو ترجیح دی جائے۔ ایسی صورت میں فائرنگ کا استعمال صرف اس وقت جائز قرار دیا جا سکتا ہے جب اہلکاروں کی جان کو فوری اور واضح خطرہ لاحق ہو۔ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ آڈیو لیک کی فرانزک تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، تاہم آڈیو میں موجود نکات اور اندازِ گفتگو نے عوامی اور صحافتی حلقوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ واقعے کے بعد نہ تو سی ٹی ڈی کی جانب سے آڈیو کے مندرجات پر براہِ راست ردِعمل دیا گیا ہے اور نہ ہی کسی آزاد تحقیقات کا اعلان سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں انتہائی پیچیدہ اور خطرناک حالات میں کی جاتی ہیں، جہاں لمحوں میں فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہی پیچیدگی شفاف تحقیقات کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتی ہے۔سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کرائی جائے، آڈیو لیک کی فرانزک جانچ مکمل کی جائے اور اگر کسی سطح پر قانون سے تجاوز ثابت ہو تو ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔یہ واقعہ نہ صرف پشین بلکہ پورے بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشنز کے طریقۂ کار، جوابدہی اور قانون کی بالادستی سے متعلق ایک اہم امتحان بن چکا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.