چمن منجمند. واپڈا بے رحم کیا چمن کے شہری ریاست کے شہری نہیں ہے؟

واپڈا کے مظالم

0

اداریہ
چمن منجمد، واپڈا بے رحم.کیا چمن کے باسی ریاست کے شہری نہیں؟
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں اس وقت انسانیت سسک رہی ہے، لیکن محکمہ کیسکو (واپڈا) کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ایک طرف قدرت نے برفباری اور شدید بارشوں کی صورت میں سخت امتحان ڈال رکھا ہے، تو دوسری جانب واپڈا حکام نے “بجلی کی بندش کے کوڑے برسا کر چمن کے غیور عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ یہ محض لوڈشیڈنگ نہیں، بلکہ ایک پورے شہر کو جیتے جی برفیلے جہنم میں دھکیلنے کی سازش اور بدترین عوامی دشمنی ہے۔
وعدہ خلافی یا کھلم کھلا دھوکہ دہی؟
کچھ دن قبل کیسکو حکام نے بلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ صوبے بھر میں شدید سردی اور برفباری کے دوران لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی۔ لیکن آج چمن کی صورتحال ان دعووں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے۔ کہاں گیا وہ وعدہ؟ کہاں گئے وہ دعوے؟ حقیقت یہ ہے کہ چمن کے باسیوں کو 48 گھنٹے کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد صرف 4 گھنٹے بجلی کی جھلک دکھائی جاتی ہے، جیسے کسی قیدی کو چند لمحوں کے لیے ہوا دی جا رہی ہو۔ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے ٹیکسوں سے ان افسران کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں؟اس وقت چمن میں پارہ نقطہ انجماد سے کہیں نیچے گر چکا ہے۔ جب بوڑھوں، بچوں اور بیماروں کو حرارت اور روشنی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، تب کیسکو نے شہر کو مکمل اندھیرے اور منجمد کر دینے والی سردی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
* پینے کے پانی کی قلت: بجلی نہ ہونے سے واٹر پمپ بند ہیں، لوگ پیاسے ہیں۔
کاروبارِ زندگی مفلوج: دکانیں،بینکز اور ہسپتال شدید متاثر ہیں۔شدید برفباری میں اندھیرا مجرمانہ عناصر کے لیے بھی کھلی چھوٹ بن جاتا ہے۔یہ سوال آج چمن کا ہر بچہ پوچھ رہا ہے کہ آخر بلوچستان کے ساتھ یہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کب ختم ہوگا؟ کیا چمن کے عوام پاکستانی نہیں؟ کیا ان کے حقوق صرف کاغذوں تک محدود ہیں؟ ایک طرف موسم کی بے رحمی نے شہریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے، تو دوسری جانب واپڈا کی رہی سہی کسر نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ یہ ظلم اور زیادتی کی وہ انتہا ہے جس پر خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔ہم اعلیٰ حکام، وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی وزیرِ توانائی سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چمن میں بجلی کی اس ناروا اور ظالمانہ بندش کا فوری نوٹس لیا جائے۔ کیسکو کے ان افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنہوں نے جھوٹے وعدے کیے اور عوام کو اس جان لیوا سردی میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔اگر چمن کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور وہ سڑکوں پر نکل آئے، تو اس کی تمام تر ذمہ داری ضلعی انتظامیہ اور کیسکو حکام پر ہوگی۔ عوام کو بجلی فراہم کریں، ورنہ کرسی چھوڑ دیں۔ چمن کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں کا محاسبہ اب ناگزیر ہو چکا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.