برطانیہ میں نئے ہوٹل کی تعمیر کیلیے کھدائی میں 100 انسانی ڈھانچے برآمد
ڈبلن: برطانیہ میں ایک نئے ہوٹل کی کھدائی کے دوران 100 انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے جنھیں مبینہ طور پر 12 ویں صدی میں قتل کرنے کے بعد اجتماعی طور پر دفن کیا گیا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ڈبلن شہر میں ایک چونکا دینے والے واقعے میں ہوٹل کی کھدائی کے دوران ہزار سال قبل اجتماعی طور پر دفن کیے گئے 100 انسانوں کی باقیات ملی ہیں۔ یہ وہی مقام ہے جہاں کبھی 12 ویں صدی کا سینٹ میریز ایبی موجود تھا۔
دریافت ہونے والی قبروں میں سے ایک میں کاربن ڈیٹنگ ہے جو 100 سال پرانی ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سینٹ میریز ایبی کی تعمیر سے پہلے بھی اس علاقے میں عیسائی آبادی موجود تھی۔ اس مقام پر آثار قدیمہ کے کام کے دوران 1600 کی دہائی سے عمارت کی بنیادیں بھی دریافت ہوئیں، جس میں 19 ویں صدی کے آخر میں ڈبلن کی سب سے بڑی بیکری Boland’s Bakery واقع تھی۔
مزید برآں کھدائی کے دوران “ڈچ بلیز” کے ایک گھر یا عمارت کے کھنڈرات بھی دریافت ہوئے ہیں۔ اسے تارکین وطن نے 1700 میں بنایا تھا جو ڈبلن پہنچے تھے جب ولیم آف اورنج نے 1689 میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کا تخت سنبھالا تھا۔
ہوٹل کی تعمیر کرنے والی کمپنی نے کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم کھنڈرات کو ہوٹل کے ڈیزائن میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جب کہ وہاں سے ملنے والی انسانی باقیات کو تجزیے کے لیے آثار قدیمہ کے حوالے کردیا گیا۔
اس جگہ کے دورے کے دوران ماہرین آثار قدیمہ نے 1667 کے دور کے پریسبیٹیرین میٹنگ ہاؤس کی بنیادیں بھی دریافت کیں۔ ہوٹل کے بار اور ریستوران انہی بنیادوں پر کھڑے کیے جائیں گے۔
اس ہوٹل کا افتتاح 2025 میں متوقع ہے۔
[…] سبی کورونا وائرس کے باعث بند کی جانے والی نواب اکبر خان بگٹی شہےد بے نظےر بھٹو کی شہادت کے بعد بند ہونے والی کراچی نائٹ کوچ گزشتہ سال ہرک کے مقام پر رےلوے پل بہہ جانے کی وجہ سے بند بولان مےل تاحال بحال نہ کی جاسکےںٹرےنوں کی بندش سے سندھ اور پنجاب جانے والے مسافرشدےد پرےشانی کا شکار بند مسافر ٹرےنوں سے رےلوے کو لاکھوں روپے روزانہ اسٹےشنوں پر محنت مزدوری کرنے والے بھی فاقہ کشی پر مجبور وسائل کی موجودگی کے باوجود رےلوے کا بند ٹرےنوں کی بحالی کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہےں بلوچستان سے واحد ٹرےن کی حالت بھی قابل توجہ ٹرےنوں کو دوبارہ بحال کرنے کا عوامی مطالبہ بھی کام نہ آسکاعوامی نمائندے بھی خواب خرگوش مےں مگن کےا جائے ۔تفصےلات کےمطابق کورونا وائرس کے باعث بند کی جانے والی کوئٹہ سے براستہ فےصل آباد نواب اکبربگٹی اےکسپرےس اورشہےد بے نظےر بھٹو کی شہادت کے موقع پر کوئٹہ سے بداستہ روہڑی نواب شاہ حےدر آباد جانے کے لئے نائٹ کوچ جبکہ گزشتہ سال سےلابی رےلے کی نظر ہونے والا ہرک پل کے گرجانے کی وجہ سے کوئٹہ سے براستہ سہون شرےف کوٹری کراچی جانے والی بولان مےل تاحال معطل ہے جس کی وجہ سے بلوچستان سے اندوروں ملک جانے والے لاکھوں افراد شدےد مشکلات کا شکار ہے کوئٹہ سے براستہ جےکب آبا د رہڑی لاہور پشاور جانے کے لئے جعفر اےکسپرےس دستےاب ہے جو مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کےلئے ناکافی ہے کراےے بھی آسمان سے بات کررہے ہےں کراچی نائٹ کوچ بولان مےل اور اکبر بگٹی اےکسپرےس کی بندش سے رےلوے کا روازنہ لاکھوں کا نقصان جبکہ اسٹےشنوں پر محنت مزدوری کرنے والے افراد فاقہ کشی پر مجبور ہے دوسری جانب وسائل اور افرادی قوت کی موجودگی کے باوجود رےلوے کی جانب سے بند مسافر ٹرےنوں کو بحال نہ کرنے کی وجہ رےلوے آفیسران اور ٹرانسپورٹر کی ملی بھگت بھی بتائی جارہی ہے رےلوے کی بند مسافر ٹرےنوں کی بحالی کے لئے منتخب عوامی نمائندگاں بھی خواب خرگوش مےں مگن ہے عوامی حلقوں نے وزےراعظم پاکستان مےاں شہباز شرےف وفاقی وزےر رےلوے خواجہ سعد رفےق سے اپےل کی ہے کہ وہ بند ٹرےنوں کو جلد بحال کرنے کےساتھ ساتھ اکبر اےکسپرےس کو اب براستہ فےصل ، وزےرآباد ، سےالکوٹ تک چلاےا جائے ۔ […]