کوئٹہ سے بند ٹرینیں بحال نہ ہوسکیں، جعفر ایکسپریس مسافروں کے حساب سے ناکافی، کرایہ بھی کافی مہنگا
سبی کورونا وائرس کے باعث بند کی جانے والی نواب اکبر خان بگٹی شہےد بے نظےر بھٹو کی شہادت کے بعد بند ہونے والی کراچی نائٹ کوچ گزشتہ سال ہرک کے مقام پر رےلوے پل بہہ جانے کی وجہ سے بند بولان مےل تاحال بحال نہ کی جاسکےںٹرےنوں کی بندش سے سندھ اور پنجاب جانے والے مسافرشدےد پرےشانی کا شکار بند مسافر ٹرےنوں سے رےلوے کو لاکھوں روپے روزانہ اسٹےشنوں پر محنت مزدوری کرنے والے بھی فاقہ کشی پر مجبور وسائل کی موجودگی کے باوجود رےلوے کا بند ٹرےنوں کی بحالی کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہےں بلوچستان سے واحد ٹرےن کی حالت بھی قابل توجہ ٹرےنوں کو دوبارہ بحال کرنے کا عوامی مطالبہ بھی کام نہ آسکاعوامی نمائندے بھی خواب خرگوش مےں مگن کےا جائے ۔تفصےلات کےمطابق کورونا وائرس کے باعث بند کی جانے والی کوئٹہ سے براستہ فےصل آباد نواب اکبربگٹی اےکسپرےس اورشہےد بے نظےر بھٹو کی شہادت کے موقع پر کوئٹہ سے بداستہ روہڑی نواب شاہ حےدر آباد جانے کے لئے نائٹ کوچ جبکہ گزشتہ سال سےلابی رےلے کی نظر ہونے والا ہرک پل کے گرجانے کی وجہ سے کوئٹہ سے براستہ سہون شرےف کوٹری کراچی جانے والی بولان مےل تاحال معطل ہے جس کی وجہ سے بلوچستان سے اندوروں ملک جانے والے لاکھوں افراد شدےد مشکلات کا شکار ہے کوئٹہ سے براستہ جےکب آبا د رہڑی لاہور پشاور جانے کے لئے جعفر اےکسپرےس دستےاب ہے جو مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کےلئے ناکافی ہے کراےے بھی آسمان سے بات کررہے ہےں کراچی نائٹ کوچ بولان مےل اور اکبر بگٹی اےکسپرےس کی بندش سے رےلوے کا روازنہ لاکھوں کا نقصان جبکہ اسٹےشنوں پر محنت مزدوری کرنے والے افراد فاقہ کشی پر مجبور ہے دوسری جانب وسائل اور افرادی قوت کی موجودگی کے باوجود رےلوے کی جانب سے بند مسافر ٹرےنوں کو بحال نہ کرنے کی وجہ رےلوے آفیسران اور ٹرانسپورٹر کی ملی بھگت بھی بتائی جارہی ہے رےلوے کی بند مسافر ٹرےنوں کی بحالی کے لئے منتخب عوامی نمائندگاں بھی خواب خرگوش مےں مگن ہے عوامی حلقوں نے وزےراعظم پاکستان مےاں شہباز شرےف وفاقی وزےر رےلوے خواجہ سعد رفےق سے اپےل کی ہے کہ وہ بند ٹرےنوں کو جلد بحال کرنے کےساتھ ساتھ اکبر اےکسپرےس کو اب براستہ فےصل ، وزےرآباد ، سےالکوٹ تک چلاےا جائے ۔
[…] کوئٹہ (این این آئی) امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولاناعبدالحق ہاشمی نے کہاکہ گرین بسیں کیا کوئٹہ میں پرواز کریں گی؟ کوئٹہ کی کونسی سڑک اس قابل ہے کہ اس پر جدیدبسیں چل سکیں۔ کئی عرصے سے شہرکی سڑکیں تعمیرنہیں ہوئی ہوتی ہے تو جون کے مہینے میں فنڈزوکمیشن کے حصول کیلئے سڑکوں کا منہ کالاکیاجاتاہے جوکہ چند دنوں میں پہلے سے زیادہ خراب ہوکر کھڈے بن جاتے ہیں ۔حکومت پہلے شہرکی سڑکوں کی حالت تبدیل کرتے ہوئے نیک نام ٹھیکیدارکے ذریعے سڑکیں تعمیر کریں اس کے بعد اگر گرین بسیں چلیں بھی توکچھ عرصہ تو عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہوجائے بصورت دیگر چند مہینوں میں گرین بسیں واپس گیرجوں ،حکومتی پارکنگ میں کھڑے کیے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے دیگر بڑے شہروں کے سڑکیں اور مین بین اضلاعی شاہراہیں بھی تباہی وبربادی کا شکارہیں کئی سالوں سے بلوچستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ چمن کوئٹہ کراچی شاہراہ کو ڈبل کرنے کا ہے اس طرف بھی حکومت توجہ نہیں دے رہااگر توجہ دے رہا ہے توچیونٹی کی طرح کا کام کرکے مہینوں کا کام سالوں میں کروانا چاہتاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ کمیشن سمیٹاجائے ۔بلوچستان کے مین شاہراہیں اور شہروں کی سڑکوں کی حالت بہت بری ہے جس کی وجہ سے نہ مریض بروقت ہسپتال پہنچتا ہے کہ سبزی ومیوہ جات منڈی ومارکیٹ تک پہنچ رہا ہے زراعت ومعیشت اور معاشرت کے نقصان میں شاہراہوں کی خراب حالت کا بہت بڑاہاتھ ہے ایک طرف زراعت ومعیشت کو بجلی وگیس کی لوڈشیڈنگ نے نقصان پہنچایا ہے تو دوسری طرف زراعت آمدورفت ،سڑکوں کی خراب حالت نے بھی جلتی پرتیل کاکام کیا ہے ۔سیاسی طور پر ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دیکر ٹھیکیدار کو تو مالامال کیا جاتاہے مگر شاہراہیں چنددنوں ومہینوں میں پہلے سے بدترہوجاتی ہے ۔ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین اور حساس صوبہ ہے قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے بلوچستان طویل مدت سے بڑے مسائل کا شکار ہے ریاستی اداروں کے کنٹرول کی وجہ سے اہم صوبہ سیاسی اور انتظامی اعتبار سے بہت کمزور کردیا گیا ہے اسی وجہ سے مفادپرستی، چاپلوسی اور عوام میں مایوسی کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت ومقتدرقوتیں عوام کو جائز بنیادی قانونی حقوق بھی دیناہی نہیں چاہتے ۔بلوچستان کے سلگتے مسائل کو حل کرناوقت کی اہم ضرورت ہے بے عمل وعدوں واعلانات کا دو رگزرگیا ۔بارڈرٹریڈپر بھتہ خور،ماہی گیری پر ٹرالر مافیاقابض ہے جس کی سرپرستی حکومتی مافیازکر رہے ہیں ۔بارڈروساحل پرحکومتی ناروا رویوں، سیکیورٹی چیکنگ کے نام پر انسانی تذلیل نے جلتی پر تیل کاکام کیاہے ۔ […]
[…] کوئٹہ گزشتہ روز پشین اسٹاپ پر فائرنگ کا مقدمہ سردار شہزاد ترین کی مدعیت میں درج کر لیا گیا،مقدمہ بجلی روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں قتل، اقدام قتل دہشت گردی سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہے، پولیس نے فائرنگ کے مقام سے شواہد اکھٹے کر لئے گئے اورمقدمے کے اندراج کے بعد تحقیقات کا باقائدہ آغاز کر لیا گیا،اس واقعے میںلیویز اہلکار سمیت دو افراد جاں بحق اور بچہ زخمی ہوا تھا […]