اینٹارٹیکا جیسے خطے میں بھی جنسی ہراسگی کے واقعات ہونے لگے
میک مورڈو: شہروں یا دیہاتوں میں جنسی ہراسگی کے واقعات عام ہوچکے ہیں لیکن دنیا سے الگ تھلگ کسی خطے جیسے اینٹارٹیکا میں ایسے واقعات رونما ہونے لگیں تو خواتین کو اپنی حفاظت کیلئے خود ہی کمر کسنی پڑتی ہے۔
عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق 35 سالہ موناہون ان بہت سی خواتین میں سے ایک ہیں جن کو برفانی صحرا اینٹارٹیکا میں امریکی تحقیقی ادارے McMurdo Station کے عملے نے جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا جس پر انہوں نے وہاں کام کررہے مردوں کے خوف سے اپنے پاس ہتھوڑی بطور ہتھیار رکھنا شروع کردی۔
موناہون نے بتایا کہ انٹارکٹیکا میں امریکا کے تحقیقی مرکز میں جنسی ہراسانی اور حملوں کو پنپنے دیا جارہا ہے۔ اگر مرکز کے حکام اعلیٰ ان کی حفاظت نہیں کر رہے، تو انہیں اپنے آپ کو بچانے کی ضرورت ہے۔
امریکی حکومت کے ماتحت ایجنسی نیشنل سائنس فاؤنڈیشن جو امریکا کے انٹارکٹک پروگرام کی نگرانی کرتی ہے، نے 2022 میں ایک رپورٹ شائع کی جس میں 59 فیصد خواتین نے شکایت درج کی تھی کہ اینٹارٹیکا میں امریکی تحقیقی مرکز میں انہیں جنسی طور پر ہراساں یا حملے کا نشانہ بنایا گیا اور 72 فیصد خواتین نے ایسے واقعات کی تصدیق کی۔ جبکہ ان میں ایسی بھی متاثرہ خواتین تھیں جنہیں ریپ کا نشانہ بنایا گیا لیکن اُسے جنسی ہراسانی کے طور پر پیش کیا گیا۔
دوسری جانب اے ایف پی نے عدالتی ریکارڈز، اندرونی مواصلات کے جائزے اور ایک درجن سے زائد موجودہ اور سابق ملازم خواتین کے انٹرویوز لینے کے بعد اس حقیقت سے پردہ فاش کیا کہ متعدد ایمپلائرز کی طرف سے ہراساں کیے جانے یا حملے سے متعلق خواتین کی شکایتوں کو دبا دیا جاتا ہے یا انہیں ٹال دیا جاتا ہے۔