دہشت گردوں کا بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان
اسلام آباد(یو این اے)وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات کو وکلا کے سامنے رکھنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ حقائق ایسے ہیں جنہیں کیمروں کے سامنے بیان کرنا ممکن نہیں۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ نواب خیر بخش مری کو افغانستان سے واپس لایا گیا اور ان کی واپسی پر بلوچستان میں پہلے دن ہی پاکستان کا جھنڈا جلایا گیا۔ان کے مطابق نواب مری نے آزاد بلوچستان کا بیانیہ رکھا جبکہ نواب اکبر خان بگٹی کی ہلاکت کے بعد شدت پسندی کی نئی لہر اٹھی۔ جسٹس نواز مری پر حملہ اور قتل آج بھی بلوچوں کو یاد ہے اور کوہِ مردار سے کوئٹہ شہر کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ نواب خیر بخش مری کے ساتھ جیل میں مذاکرات ہوئے اور انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا۔ ان کے بیٹے بالاج مری کو انگلینڈ سے لا کر 2002 کا الیکشن جتوایا گیا
جہاں انہوں نے وطن سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔تاہم دہشتگردی کے واقعات نے ریاست کو نقصان پہنچایا اور کئی لوگ دوبارہ کیمپس میں شامل ہو گئے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کو قانون کے مطابق جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنا ظلم قرار دیا اور کہا کہ اگر بی ایل اے نے کوئی ترقیاتی کام کیا ہے تو حکومت اسے مزید بہتر کرے گی، لیکن جو لوگ تشدد کے ذریعے ریاست توڑنے کی کوشش کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔وزیر اعلی نے کہا کہ ہر شہری کو آئین کے تحت احتجاج کا حق ہے، مگر سڑکیں بند کرنا یا ایمبولینس میں مریض کو مرنے دینا ظلم ہے۔
پنجابی فیملی پر حملے کو انہوں نے انسانیت سوز قرار دیا اور کہا کہ بلوچستان کے وکلا پر حملوں نے ریاست اور معاشرے دونوں کو نقصان پہنچایا ہے۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان کا جھنڈا اتار کر آزاد بلوچستان کا جھنڈا لگانا ناقابل برداشت ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اپنی سڑکوں پر علیحدگی کی تحریکوں کی اجازت نہیں دیتا۔ان کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کی لاشوں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا گمراہ کن عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار بلوچستان میں انتہائی اہم ہے کیونکہ وہاں صحافت بہت مشکل ہے۔ پاکستان کا میڈیا ہمیشہ مظلوم اور محکوم طبقے کی آواز بنا ہے۔ بگٹی کے مطابق بلوچستان کے مسائل اور ان کے حل آپس میں جڑے ہیں اور اصل تصویر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے سپریم کورٹ بار کے لیے دس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسنز پر سیاست کرنے والوں کو صوبے کی پسماندگی میں فائدہ ہے،
مگر ہماری حکومت پہلی ہے جس نے اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست پر الزامات ختم کرنے کے لیے قانون میں واضح ترامیم کی گئی ہیں اور اب کسی کو شک کی بنیاد پر حراست میں لینے کے بعد لازمی طور پر قانونی کارروائی ہوگی۔انہوں نے مزید بتایا کہ حراست میں لیے گئے ہر شخص کا ہفتہ وار میڈیکل چیک اپ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ ریاستی اداروں کو مثر قانونی ٹولز فراہم کر دیے گئے ہیں۔وزیر اعلی نے وعدہ کیا کہ دسمبر تک بلوچستان میں ایک بھی اسکول بند نہیں ہوگا۔تقریب سے سابق صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔ان کے مطابق سیاست کے ساتھ ساتھ وکلا کو سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے وکلا کی سیکیورٹی اور ویلفیئر کے منصوبوں کو فوری طور پر شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔