بلوچ طلبا کو لاپتہ اور قید کرکے ان کی تحقیقی اور علمی صلاحیتوں کو ختم کیا جارہا ہے، بی ایس او (پجار)
کوئٹہ . بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) کے مرکزی سینئر وائس چیئرمین بابل ملک بلوچ، وحدت بلوچستان کے صدر شکیل بلوچ نے اپنے جاری بیان کہا کہ طلباءکو بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں میں فورسز اور دیگر اداروں کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے، ان کی معلومات لی جارہی ہیں اور گھروں پر چھاپے مار کر نہ صرف چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے بلکہ طلباءان کو لاپتہ کرکے ان کو ٹارچر سیلوں میں ڈال کر برسوں تک ان کی تحقیقی اور علمی صلاحیتوں کو ختم کیا جاتا ہے تاکے قومی تحریک کو دبایا اور کمزور کیا جاسکے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم روز اول سے کہتے رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ قانون اور آئین کے تحت رویہ رکھا جائے نہ کہ سیالکوٹ کے درآمد لوگوں کے خیالات اور سوچ کو یہاں کے لوگوں پر تھوپ دیا جائے، ایسے تجربات ماضی میں بھی ناکام رہے ہیں، اب بھی ان تجربات سے بربادی، جنگ اور بے امنی کے سوا کچھ نہیں ملے گا، بلوچ اپنے وطن کے واحد مالک ہیں یہاں کے ڈاکو جنہوں نے دیگر ممالک کے ساتھ معاہدے کیے، بلوچ وطن کے وسائل پر قبضہ کیا و معدنیات کا بے دریغ استعمال شروع کیا جس پر نوجوان اور عوام کے رد عمل کو روکنے کے لیے اپنے پے رول پر کام کرنے والے ٹارگٹ کلرز کے ذریعے طلبہ و اساتذہ، صحافی، ڈاکٹر، انجینئر، وکیل و سیاسی کارکنوں کو قتل کروایا گیا تاکہ سوال کرنے کی جرا¿ت و ہمت کسی میں پیدا نہ ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ 5100 دن سے ماما قدیر پریس کلب کوئٹہ کے باہر بیٹھے ہیں، وفاق سے لے کر صوبے اور پھر ضلع و تحصیل سطح تک سرکار و ریاست کے ذمہ دار گئے، تسلیاں دیں لیکن سب فریب و دھوکہ بازی کے سوا کچھ بھی نہیں، جہاں ایک رہا کرتے ہے وہاں دس مزید لوگ لاپتہ کردیتے ہیں، ریاست کی پالیسی واضح ہے کہ بلوچ وطن کے وسائل پر قابض ہو کر یہاں کی معدنیات لوٹ کر یہاں کے مقامی باشندوں کو ان سے محروم رکھا جائے اور بولنے یا پھر کسی سطح پر سوال کرنے کے جرم میں لاپتہ یا پھر ٹارگٹ کلرز کے ذریعے قتل کردیا جائے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کے تعلیمی اداروں سے فورسز کا انخلاءاور مداخلت مکمل بند کی جائے اور لاپتہ افراد کو فوری رہا کیا جائے، حبس بے جا میں رکھ کر اپنی طاقت کا تو یقین دلایا جاسکتا ہے لیکن انصاف اور قانون کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان ہم آہنگی ہوسکتی ہے۔
[…] روم: یورپ کے مختلف ممالک میں شدید گرمی سے معمولات زندگی متاثر ہوگئے۔ […]