ملک میں سولر پینلز کے استعمال کا بڑھتا رجحان، ماہرین نے ماحولیاتی خطرات سے خبردار کر دیا
لاہور(اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں توانائی کے بحران اور مہنگی بجلی کے باعث سولر پینلز کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، مگر ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ناکارہ پینلز اور بیٹریوں کے فضلے کا مؤثر انتظام نہ کیا گیا تو یہ نیا بحران جنم دے سکتا ہے۔
گزشتہ مالی سال میں پاکستان نے لاکھوں سولر پینلز اور ہزاروں میگاواٹ گنجائش رکھنے والی بیٹریاں درآمد کیں۔ ماہرین کے مطابق سولر پینلز کی اوسط عمر 20 سے 25 سال جبکہ بیٹریوں کی عمر پانچ سے دس سال ہے، جس کے بعد یہ ناکارہ ہو کر زہریلے کچرے میں بدل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان طارق کے مطابق بارش یا سیلاب میں ڈوبنے والے پینلز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بیٹریاں شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان کے زہریلے کیمیکلز مٹی اور زیر زمین پانی میں شامل ہو کر سنگین بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان پہلے ہی ہر سال چار لاکھ ٹن برقی فضلے (ای ویسٹ) کے دباؤ میں ہے، جس میں موبائل فون، کمپیوٹر اور گھریلو آلات شامل ہیں۔ پنجاب اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں پرانا سامان کباڑ بازاروں میں غیر محفوظ طریقوں سے تلف ہوتا ہے، جس سے ماحول اور انسانی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔
سابق جیولوجسٹ ڈاکٹر نعیم مصطفی نے مسئلے کے حل کے طور پر اربن مائننگ تجویز کی، جس کے تحت پرانے آلات سے قیمتی دھاتیں جدید اور محفوظ طریقوں سے نکالی جا سکتی ہیں۔ ماحولیاتی وکیل التمش سعید نے کہا کہ یورپی یونین اور جاپان میں ری سائیکلنگ کے سخت قوانین موجود ہیں جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے پالیسی سازی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر علی اعجاز کے مطابق ای ویسٹ مینجمنٹ کے لیے جامع پالیسی پر کام جاری ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ سولر پینلز کے امپورٹرز نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ری سائیکلنگ مراکز قائم کرے اور سرمایہ کاروں کو ٹیکس مراعات دے تاکہ پائیدار نظام تشکیل دیا جا سکے۔
ڈاکٹر سلمان طارق نے زور دیا کہ پاکستان کو “توسیعی ذمہ داری برائے سازندگان” کا اصول اپنانا ہوگا تاکہ کمپنیاں اپنی مصنوعات کے استعمال کے بعد بھی ان کے فضلے کی ذمہ دار ہوں۔ ان کے بقول اگر یہ نظام قائم ہوا تو نہ صرف ماحول محفوظ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے، بصورت دیگر صاف توانائی کا خواب ایک نئے ماحولیاتی بحران میں بدل سکتا ہے۔