بلوچستان میں مرد و خواتین کام کی جگہ پر ہراسگی کیخلاف صوبائی محتسب میں شکایت کرسکتے ہیں، نورجہاں مینگل
کوئٹہ (آن لائن) صوبائی محتسب بلوچستان برائے خواتین نورجہاں مینگل نے کہاہے کہ بلوچستان کے لوگوں کو کام کی جگہ پر پرامن اور ہراساں کرنے سے پاک ماحول فراہم کرنے کیلئے حکومت بلوچستان نے بلوچستان پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وومن ایٹورک پلیس ایکٹ2016 منظور کیا ہے جس کے بعد عورت یا مرد ہراساں کئے جانے کی شکایت درج کرواسکتے ہیں۔ یہ بات انہو ں نے خضدارمیں اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی سیل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں اے ڈی سی خضدارسراج احمد،صوبائی محتسب انسداد ہراسمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے میراحمدنوازمری سمیت دیگر نے شرکت کی۔انہوں نے کہاکہ سیکشن(3(1ایکٹ آف وومن پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ 2016ءکو صوبائی اسمبلی نے پاس کیاتھا 16جنوری 2016ءکو گورنر بلوچستان نے باقاعدہ اس ایکٹ پردستخط کئے یہ ایکٹ بلوچستان کے تمام ڈیپارٹمنٹ اور نان گورنمنٹ آرگنائزیشن،پرائیویٹ آرگنائزیشنز میں لاگوہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کام کی جگہ پر کسی بھی خاتون یا مرد کو ہراساں کرنا نہ صرف اسکے وقار کیلئے خطرہ ہے بلکہ اسکے پیشے اورکیرئیر کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی 47.8فیصدآبادی خواتین پر مشتمل ہے لیکن ہراساں کئے جانے کی وجہ سے ہمارے ترقیاتی شعبے میں صرف5فیصد خواتین کام کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کام کی جگہ پر خواتین اور مردوں کو ہراساں کرنے سے پاک ماحول کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں اوراسی سلسلے میںبلوچستان پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وومن ایٹورک پلیس ایکٹ2016 منظورکیا گیاہے خواتین اور مردکام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے کی شکایت صوبائی محتسب کے پاس جمع کراسکتی ہیں جس کی باقاعدہ انکوائری کے بعد ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔