کاہان میں نقل مکانی کرنیوالوں کی دوبارہ آباد کاری کریں گے، اپنے دور میں سرکاری نوکری کی بولی نہیں لگائی، نوابزادہ گزین مری
کوہلو(آ ن لائن)سابق صوبائی وزیر داخلہ نوابزادہ گزین خان مری کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ کاہان سمیت علاقے میں دیرپا امن کے لیے کوشاں ہیں علاقے میں جب امن وامان کی صورتحال بہتر ہوگی تو نقل مکانی کرنے والے دوبارہ آکر آباد کاری کریں گے اور ویران علاقوں میں آبادی مزید بڑھتی جائے گی، ہم نے بغیر کسی سرکاری وسال کے کاہان کی آبادکاری کا بیڑا اٹھا رکھا ہے، آج الحمد اللہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگ جوق درجوق کاہان کا رخ کر کے کیھتی باڑی اور تجارت جیسے شعبوں کے ساتھ منسلک ہورہے ہیں، جو دراصل ہماری امن کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار ہے ،کاہان کی آبادکاری کسی کریڈٹ لینے کے لیے نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر کر رہے ہیں تاکہ اپنی سات پشتوں سے منسلک اپنی آبائی علاقے کی رونقیں دوبارہ بحال کرسکیں ، بیان میں مزید کہا گیا کہ موجودہ سیٹ اپ کاہان کی آبادکاری کے لیے وسال مہیا کرنا تو دور کی بات مسال پیدا نہ کرتے تب بھی کاہان کے باسی ان کا احسان مند رہتے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن نہیں ہارے کیونکہ ہم نے کسی بھی ممبر یا ووٹر کا ضمیر نہیں خریدا۔ اور نہ ہی کسی ممبر کو تین ماہ تک ایک چاردیواری کے اندر بند رکھا ۔ ہمارے تمام ممبرز آذاد گھوم رہے تھے ۔ بلدیاتی الیکشن میں کئی ممبرز نے رشوت کے عوض ساتھ دینے کی پیش کش کی مگر ہم نے انکار کیا کہ ہمیں ضمیر کے سوداگر ووٹر نہیں بلکہ شعوری ووٹرز چاہیے ۔ہم بلدیاتی الیکشن کے آخری مرحلے تک اس اصولی مقف پر قام رہے ۔ عوام کو بھی شعوری طور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان کے ووٹوں سے منتخب نماندے عوامی وسال سے ہی عوام کو خرید رہے ہیں ۔یہ انکا ذاتی پیسہ نہیں بلکہ عوام کا ہی پیسہ ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ تیل و گیس کے ذخائر کے دریافت کے حامی ہیں بشرطیکہ کہ ہر علاقے کی معدنیاتی ذخائر سے حاصل شدہ وسال اسی علاقے کی ترقی کے لیے استعمال ہوں۔ ایک جامع پلان کے تحت انفرادی ترقی کا رخ اجتماعی ترقی کی طرف موڑنا چاہیے۔ نا انصافی پر کوئی بھی معاشرہ قام نہیں رہ سکتا ۔ ہمیں اب ملک دشمنی کے لیبلز سے باہر نکلنا ہوگا علاقائی دیرپا امن اور ترقی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ماضی میں اگر معدنیاتی ذخائر سے حاصل شدہ وسال کا منصفانہ تقسیم کیا، ہوتا تو ہر علاقے کی باشندوں کی یہی خواہش ہوتی کاش! ہمارے علاقے میں تیل اور گیس کے ذخار دریافت ہوتے ! مگر یہاں انتظامی نا انصافیوں کے باعث معاملہ الٹ ہے ۔ ہر کوی دعا گو ہے کہ ہمارے علاقے سے کچھ نہ نکلے ۔ملک کا 70 فیصد آبادی سوئی گیس استعمال کرتی ہے ۔مگر آج بھی ڈیرہ بگٹی سکول، کالج، ہسپتال، صاف پانی، سڑک اور یونیورسٹی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ نوابزادہ گزین مری نے کہا کہ سرکاری نوکریوں کی خرید و فروخت میں پورا سسٹم ملوث ہے ۔ لوگوں نے سرکاری نوکریوں کے لیے کروڑوں روپے کی لین دین کی ہوئی ہے ۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے رٹ پٹشن سے مجھے خدشہ ہے کہ لین دین کرنے والوں کے لاکھوں روپے پھنس جائیں گے اور غریب عوام مزید معاشی دلدل میں دھنس جائیں گے۔ میں نے اپنی سابق دور وزارت میں ایک بھی سرکاری نوکری کی بولی نہیں لگوائی اور آئندہ بھی میرٹ کو ترجیح دیں گے تاکہ حق دار کو اسکا حق ملے اور بلوچستان کے نوجوانوں کا تعلیم کی طرف رحجان مزید بڑھے ۔