غزہ میں قتل و غارت کی تمام حدیں پار ہوگئیں، عالمی عدالتوں کے فیصلوں کی بھی پاسداری نہیں کی گئی: سربراہ اقوام متحدہ
نیو یارک(ویب ڈیسک)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی خطاب میں کہا ہے کہ غزہ میں جاری قتل و غارت نے تمام حدیں پار کر دی ہیں اور عالمی عدالتوں کے فیصلوں کو بھی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی بنیاد 80 سال قبل امن کے قیام کے لیے رکھی گئی تھی مگر آج یہ اصول محاصرے میں ہیں۔ امن اور ترقی کے ستون بے حسی، عدم مساوات اور سزا سے استثنیٰ کے بوجھ تلے لرز رہے ہیں۔
گوتریس نے کہا کہ دنیا غیرذمہ دارانہ خلفشار اور انسانی تکالیف کے دور میں داخل ہو چکی ہے، ریاستوں پر حملے کیے جا رہے ہیں، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے اور شہروں کا ملبہ انسانی المیوں کی گواہی دے رہا ہے۔
فلسطین کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے جواب میں غزہ کے معصوم عوام کو اجتماعی سزا دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مستقل جنگ بندی، فوری امن مذاکرات اور یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں، جبکہ سلامتی کونسل کی موجودہ حیثیت سوالیہ نشان بن چکی ہے کیونکہ امریکا اور روس کے ویٹو پاور کے استعمال نے ادارے کے کردار کو محدود کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کے لیے فنڈز میں کٹوتی کی ہے، جس سے ادارے کی کارکردگی پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔