ویکسین مہم پر وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی
آزاد جموں و کشمیر(ویب ڈیسک)سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے، جس میں اسکول یونیفارم پہنی لڑکیاں اسپتال کے بستر پر دکھائی دیتی ہیں۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا کہ یہ مناظر ایچ پی وی ویکسین لگوانے کے بعد طالبات کی طبیعت خراب ہونے کے ہیں۔
تاہم فیکٹ چیک ٹیم کی تحقیق میں یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔ جانچ پڑتال کے مطابق وڈیو کا ویکسی نیشن مہم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ مئی 2024 کا واقعہ ہے، جب آزاد جموں و کشمیر کے علاقے ڈھیڈیال میں پولیس کی آنسو گیس شیلنگ کے دوران کئی طالبات بے ہوش ہوگئی تھیں۔
یہ دعویٰ اس وقت زور پکڑ گیا جب ایکس پر وڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا گیا کہ “اسکولوں میں زبردستی ویکسی نیشن کے بعد بچیاں بیمار ہوگئیں”، جسے لاکھوں افراد نے دیکھا اور ہزاروں بار شیئر کیا۔ لیکن اس پوسٹ میں نہ تو تاریخ بتائی گئی اور نہ ہی ویکسین کا ذکر تھا۔ مزید تلاش کے نتیجے میں وہی ویڈیو 9 مئی 2024 کو یوٹیوب پر بھی ملی، جس کا عنوان تھا: “ڈھیڈیال میں لڑکیوں کے اسکولوں پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل برسا دیے۔”
اس واقعے کی کوریج کرنے والے صحافی بشارت راجہ نے بھی اس دن ایکس پر بتایا تھا کہ حد سے زیادہ آنسو گیس کے استعمال سے طالبات بے ہوش ہوگئیں۔ بعد ازاں اخبارات کی رپورٹ نے بھی تصدیق کی کہ یہ واقعہ آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں اور ٹیکسوں کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آیا تھا۔
دوسری جانب، ایچ پی وی ویکسی نیشن مہم کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہم محفوظ اور مؤثر ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور پاکستان کے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن کے مطابق ستمبر 2025 میں شروع ہونے والی اس مہم کا مقصد 9 سے 14 سال کی 1 کروڑ 30 لاکھ بچیوں کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگانا ہے۔ اس ویکسین کے صرف معمولی ضمنی اثرات ہوسکتے ہیں، جیسے انجیکشن کی جگہ پر ہلکا درد یا بخار، جو دیگر ویکسینز کی طرح عام ہیں