حکمرانوں کے خطرناک عزائم

0

گوادر لسبیلہ سے ایم این اے محمد اسلم بھوتانی جب بھی کسی موضوع پر خطاب کرتے ہیں تو ایسے دلچسپ فقرے چست کرتے ہیں کہ کئی لوگ انہیں داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے۔بجٹ سیشن کے موقع پر انہوں نے بلوچستان کے حوالے سے شاندار خطاب کیا۔حال ہی میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ایک بار پھر پانچ سال کے لئے لیز پر دیا جا رہا ہے۔یہ واضح نہیں کیا کہ کس کو لیز پر دیا جا رہا ہے۔عرصہ ہوا بلوچستان ڈائریکٹ کنٹرول میں ہے۔صرف سپروائزر مقرر کئے جاتے ہیں جن کی حیثیت ملازم سے زیادہ نہیں ہوتی ان کی لیز کی معیاد بھی درست نہیں ہے کیونکہ بلوچستان میں کسی بھی وزیراعلیٰ نے اپنی مدت پوری نہیں کی۔نواب اسلم رئیسانی کی مدت پوری ہونے والی تھی کہ ہزارہ قتل عام کو بنیاد بنا کر زرداری نے مختصر مدت کے لئے گورنر راج نافذ کر دیا۔بعد ازاں ڈھائی سال کی مدت کے لئے نیشنل پارٹی کو لایا گیا اور معاہدہ مری کے مطابق ن لیگ نے باقی مدت کے لئے نواب ثناءاللہ زہری کی قیادت میں اپنی حکومت قائم کر دی۔لیکن نواب صاحب کو ہٹا کر قدوس بزنجو کو چند ماہ کے لئے لایا گیا۔
2018 کے انتخابات میں باپ پارٹی بنا کر جام صاحب کو وزیراعلیٰ بنایا گیا لیکن ان کی مدت ملازمت بھی اچانک ختم کر دی گئی۔تب سے عبدالقدوس بزنجو آئندہ انتخابات تک وزیراعلیٰ ہیں جو انتخابات نومبر میں ہونے والے ہیں۔اگر ہوئے تو معلوم نہیں کہ کس کس کو آگے لایا جائے گا۔پارٹیوںکی پوزیشن بھی معلوم نہیں۔باپ کی باقیات کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔گمان یہی ہے کہ چیف سپروائزر کسی نام نہاد قومی پارٹی کا مقرر کیا جائے گا۔چاہے وہ ن لیگ ہو یا پیپلز پارٹی ۔منظور نظر جماعتوں کو ان کے کوٹہ کے مطابق نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔اگست میں ایک نگراں حکومت آئے گی۔اپوزیشن موجود نہیں اس لئے چند لوگوں کو اپوزیشن کا نام دے کر وزیراعلیٰ مل کر کسی شخص کو نگراں وزیراعلیٰ مقرر کریں گے۔مقرر کیا کریں گے جو نام دیا جائے گا اس کا اعلان کریں گے۔ماضی میں علاﺅ الدین مری،غوث بخش باروزئی ایسے ہی انتخاب تھے۔اسی طرح سندھ اور مرکز میں بھی کوئی زیادہ دقت پیش نہیں آئے گی۔البتہ مرکز میں نگراں وزیراعظم کے تقرر پر کافی اختلاف ہے۔پی ڈی ایم کی جماعتیں چاہتی ہیں کہ کوئی سیاسی شخصیت اس عہدے پر آ جائے لیکن اصل حکمران کسی غیر جانبدار ریٹائر شخصیت کے حق میں ہیں۔پی ڈی ایم کو خدشہ ہے کہ اگر محسن بیگ ٹائپ کا وزیراعظم آیا تو عام انتخابات کم از کم 6ماہ یا ایک سال کے لئے گئے۔ایک اہم مسئلہ عمران خان سے نمٹنے کا بھی ہے۔موجودہ حکومت اور اصل حکمران چاہتے ہیں کہ الیکشن سے پہلے عمران خان نااہل ہو جائیں اور انتخابی مہم کے دوران جیل کے اندر ہوں تاکہ وہ کوئی موثر انتخابی مہم نہ چلا سکیں۔اس سلسلے میں دونوں فریقین کو پل صراط سے گزرنا پڑے گا۔بہت بڑی آئینی، انتظامی اور سیاسی جنگ لڑنا پڑے گی۔اگر سپریم کورٹ نے سویلین افراد پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلنے کی اجازت نہیں دی تو کافی مشکل پیش آئے گی۔اس صورت میں حکمرانوں کو انسداد دہشت گردی کی عدالتوں پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ان عدالتوں میں بھی اگر کیس میرٹ پر چلے تو استغاثہ کو الزامات ثابت کرنے میں کافی دقت پیش آئے گی۔حکومت جاتے جاتے بعض اہم اصلاحات منظور کروانا چاہتی ہے۔ ان میں سب سے تشویشناک بات آزادی اظہار پر مزید قدغن لگانا ہے۔حکومت کو پتہ ہے کہ عمران خان کی طاقت سوشل میڈیا ہے۔اس لئے ایسے ضوابط لائے جا رہے ہیں کہ عمران خان کے لئے پروپیگنڈا مہم چلانا ممکن نہ ہو۔دونوں کو سائبر کرائم کے دائرہ کار میں لایا جائے۔نہ صرف یہ بلکہ ٹی وی چینلز کو مزید تابع و فرمان بنانے کے لئے نئے قوانین یا رولز نافذ کئے جائیں گے جس کے تحت چینل اینکرپرسن اور اخباری ایڈیٹروں کو ہر خبر حکومت کے سامنے ثابت کر کے دینا ہی ہوگا ورنہ گرفتاریاں اور بھاری جرمانے عائد کئے جائیں گے۔یہ تو حکومتی منصوبہ ہے لیکن اگر ایسے قوانین لائے گئے تو انہیں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کر دیا جائے گا کیونکہ آئین کو معطل کئے بغیر اور بنیادی حقوق کی دفعات کی موجودگی میں ایسے تمام حکومتی اقدامات غیر قانونی ہوں گے اور عدالتیں یہ قدغن قبول نہیں کر سکتیں۔
مقام افسوس کہ جس طرح عمران خان نے اپنے دور میں میڈیا کی آزادی سلب کی۔کئی لوگوں کو جیل بھیجا اور ان کے دور میں کئی صحافیوں کو اغواءکیا گیا اور بعض پر مسلح حملے ہوئے موجودہ حکومت ان اقدامات کو مزید سخت کرنا چاہتی ہے اور پریس فریڈم کو جرم قرار دینا چاہتی ہے۔حکومت کو اندازہ نہیں کہ آج وہ جو جابرانہ قوانین لا کر آزادی اظہار کا گلا گھونٹنے کا پروگرام بنا رہی ہے کل جب وہ اپوزیشن میں ہوگی تو یہ قوانین اس کے اپنے خلاف استعمال ہونگے۔
حکومت کو یہ ادراک نہیں کہ یہ 21ویں صدی ہے یہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا دور ہے۔اطلاعات کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر آ گئی ہے۔اس لئے کوئی بھی خبر کوئی بھی اطلاع کوشش کے باوجود چھپائی نہیں جا سکتی۔سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب عمران خان نے چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک جوائن کی تو آناً فاناً 33 لاکھ لوگ اس کے فالوورز بن گئے۔اگر حکومت عمران خان کو گرفتار کر کے اور نااہل قرار دے کر انتخابی ریس سے باہر کرے گی تو ساری دنیا میں اس کی بدنامی ہو جائے گی کیونکہ مغرب کے پریس پر یہودیوں کی اجارہ داری ہے اور اس نے پہلے سے عمران خان کی حمایت شروع کر دی ہے۔یہودی میڈیا کس قدر طاقتور ہے اس کا اندازہ برطانیہ کے میڈیا سے لگایا جا سکتا ہے جہاں ایک شخص تمام بڑے اخبارات کو خرید چکا ہے۔بی بی سی اور سی این این کے سوا سارا عالمی میڈیا ان کی ملکیت ہے۔لوگ اتنے بے و قوف نہیں کہ 190ملین پاﺅنڈ کے کیس میں آپ عمران خان کو نامزد کر دیں لیکن بحریہ ٹاﺅن کے رسوائے زمانہ مالک ملک ریاض کا نام تک زبان پر نہ لائیں۔اگر حکومت میں جرات ہوتی اور عدلیہ انصاف کے تقاضے پورے کرتی تو ملک ریاض کو اب تک جیل میں ہونا چاہیے تھا۔اگر عدلیہ غیر جانب دار ہوتی تو ملیر میں بحریہ ٹاﺅن کے زیر قبضہ زمینوں کی الاٹمنٹ منسوخ کرتی اور ماحول کی تباہی کے جرم میں اسے سزا دیتی۔
لگتا یہی ہے کہ190ملین پاﺅنڈ کیس میں عمران خان گرفتار ہو جائیں گے لیکن ملک ریاض اپنے پرائیویٹ جہاز میں دندناتے پھریں گے۔اسی طرح کوئی بھی سندھ حکومت سے نہیں پوچھے گا کہ آپ نے غریب لوگوں کی لاکھوں ایکڑ زمین زبردستی چھین کر ملک ریاض کے حوالے کیسے کی کیا پتہ کہ مراد علی شاہ اگلی بار بھی وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہوں جو کہ مشکل لگتا ہے کیونکہ آصف علی زرداری آئندہ مدت کے لئے سندھ کی وزارت اعلیٰ اپنے گھر میں رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔مراد علی شاہ ہو سکتا ہے کہ الیکشن کے بعد ہمیشہ کے لئے امریکہ چلے جائیں جہاں کے وہ شہری ہیں۔بہرحال آئینی سیاسی اور انتظامی جنگ اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے عمران خان فی الحال ڈٹ کر کھڑے ہیں اگر انہیں قابو کئے بغیر انتخابات ہوئے تو حکمرانوں کو لینے کے دینے پڑیں گے کیونکہ عمران خان تنہا نہیں ہیں۔عالمی مقتدرہ کا ایک حصہ ان کے ساتھ ہے۔عدلیہ میں بھی ان کے حامی موجود ہیں اور کئی دیگر حلقوں میں بھی ان کے لئے ہمدردی کے جذبات موجود ہیں جبکہ عوام کا کوئی بھروسہ نہیں کہ حکمرانوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود ان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔اسے روکنے کے لئے ضیاءالحق اور مشرف کے ریفرنڈم کی طرح بکسے پہلے سے بھر کر لانا پڑیں گے۔سوال یہ ہے کہ دنیا ایسے کسی جھرلو کو قبول کرے گی؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.