جسٹس طارق جہانگیری سمیت 5 ججز کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اقدامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج

0

اسلام آباد (ویب ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے مختلف اقدامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

درخواست جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن امتیاز کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر کی گئی، جسے ڈائری نمبر 23409 الاٹ کیا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف

درخواست گزار ججز نے مؤقف اپنایا کہ:

  • کسی جج کو کام سے روکنے کا اختیار صرف آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کو ہے۔

  • چیف جسٹس انتظامی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ججز کے عدالتی اختیارات ختم نہیں کر سکتے۔

  • چلتے مقدمات کو دوسرے بینچز کو منتقل کرنا اور دستیاب ججز کو روسٹر سے نکالنا آئینی طور پر درست نہیں۔

  • ماسٹر آف روسٹر کا نظریہ سپریم کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔

  • انتظامی کمیٹیوں کے 3 فروری اور 15 جولائی کے نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیے جائیں۔

پس منظر

واضح رہے کہ 16 ستمبر کو مبینہ جعلی ڈگری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو جوڈیشل ورک سے روک دیا تھا۔ عدالت نے یہ پابندی سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے تک برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس طارق جہانگیری نے بعد ازاں 17 ستمبر کو چیف جسٹس کورٹ کی سماعت کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ کے حصول کے لیے بھی درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ آمد

پانچوں ججز سپریم کورٹ پہنچے تو صحافی کے سوال پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ “جی، کیسز سن کر ہی سپریم کورٹ آئے ہیں۔”
ذرائع کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری کا امکان ہے کہ وہ اپنا کیس خود لڑیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.