دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، کچے کے علاقے زیر آب
سکھر/لاہور (ویب ڈیسک) دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث کچے کے علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔
فیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے تاہم سطحِ آب مسلسل کم ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیر معین وٹو نے بتایا کہ تربیلا ڈیم 27 اگست سے 100 فیصد تک بھر چکا ہے جبکہ منگلا ڈیم 96 فیصد بھرا ہوا ہے اور اس میں مزید چار فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین توجہ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے جائزے اور متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز ہے، اسی مقصد کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا ہے کہ پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل سطح پر آ گیا ہے۔ دریائے سندھ، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے جبکہ دریائے چناب کے مختلف مقامات، جن میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں شامل ہیں، پر بھی صورتحال قابو میں ہے۔ البتہ پنجند کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں پانی کا بہاؤ کم ہو کر ایک لاکھ 94 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے کا جبکہ سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں کا بہاؤ بھی معمول پر ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے جبکہ مون سون کا 11واں اسپیل 19 ستمبر تک جاری رہے گا۔ 18 اور 19 ستمبر کے دوران راولپنڈی، مری اور گلیات کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق تمام ادارے الرٹ ہیں اور شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔