ایچ پی وی ویکسین پر اعتراضات: سازش یا زندگی بچانے والی ایجاد؟

0

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) دنیا بھر میں سائنس کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ایچ پی وی ویکسین ہے جو خواتین کو سروائیکل کینسر جیسے مہلک مرض سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، مگر پاکستان میں یہ ویکسین اب بھی بحث و تکرار کا شکار ہے۔

عالمی کامیابی

ایچ پی وی ویکسین کی تیاری کا آغاز 1990 کی دہائی میں ہوا اور 2006 میں پہلی بار Gardasil کے نام سے منظرِ عام پر آئی۔ عالمی ادارۂ صحت اور امریکی سی ڈی سی کے مطابق یہ ویکسین خواتین میں سروائیکل کینسر کے 70 تا 90 فیصد کیسز کی روک تھام کرتی ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور ناروے میں اس ویکسین کے استعمال سے نوجوان نسل میں کینسر کی شرح نصف سے بھی کم ہوگئی ہے۔

پاکستان میں صورتحال

پاکستان میں ہر سال تقریباً 5 ہزار خواتین سروائیکل کینسر کا شکار ہوتی ہیں اور اموات کی شرح 60 فیصد کے قریب ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں میں بھی منہ، گلے اور تولیدی اعضا کے سرطان سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے۔

رکاوٹیں اور خدشات

پاکستان میں اس ویکسین کی راہ میں بڑی رکاوٹیں درپیش ہیں:

  • کچھ حلقے اسے ’’مغربی سازش‘‘ قرار دیتے ہیں۔

  • والدین کو خوف ہے کہ یہ نوجوانوں میں جنسی آزادی کو فروغ دے گی۔

  • عام لوگوں میں لاعلمی اور بداعتمادی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔

اسلامی دنیا کی مثالیں

متعدد اسلامی ممالک نے اس ویکسین کو اپنے قومی پروگرام میں شامل کر لیا ہے۔ ملیشیا کے علما نے 2010 میں فتویٰ دیا کہ اگر اجزا مشکوک نہ ہوں تو یہ ویکسین جائز ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 2018 میں HPV ویکسین کو اپنے حفاظتی پروگرام کا حصہ بنایا، جبکہ سعودی عرب میں بھی مذہبی خدشات کے باوجود طبی دلائل غالب آگئے۔

نتیجہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسلام انسانی جان کی حفاظت کو سب سے اہم قرار دیتا ہے۔ اگر حکومت پاکستان اس ویکسین کو حفاظتی ٹیکوں کے قومی پروگرام میں شامل کرے تو ہر سال ہزاروں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.