خالص دودھ ،دہی اور اشیاء خرد نوش عوام کا حق ہیں ،وزیر اعلیٰ بلوچستان
کوئٹہ (خبر نامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو خالص اور ملاوٹ سے پاک دودھ کی فراہمی کے لیے بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ کوئٹہ شہر اور مضافاتی علاقوں میں دودھ و ڈیری مصنوعات کی جانچ پڑتال کے لیے خصوصی انسدادِ ملاوٹ مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔اس سلسلے میں بی ایف اے کی ٹیموں نے طوغی روڈ، علمدار روڈ، ہزارہ ٹاؤن، اسپنی روڈ، کچلاک بازار اور بلیلی میں دودھ فروشوں، ملک شاپس اور دودھ بردار گاڑیوں کا معائنہ کیا۔
جانچ پڑتال کے دوران دودھ اور دہی میں ملاوٹ ثابت ہونے پر 2 دکانیں فوری طور پر سیل کر دی گئیں جبکہ غیر معیاری دودھ اور پاؤڈر سے تیار کردہ دہی کی بھاری مقدار ضبط کر کے تلف کر دی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 31 دکانوں اور 22 دودھ بردار گاڑیوں سے 7720 لیٹر دودھ و دہی کے نمونے موبائل لیبارٹری میں بھیجے گئے۔ ان میں سے 240 لیٹر دودھ اور 480 کلو دہی میں ملاوٹ ثابت ہوئی، جسے موقع پر ہی ضائع کر دیا گیا۔ مزید برآں 11 دودھ فروشوں اور ایک ملک سپلائر پر بھاری جرمانے عائد کیے گئے اور سخت قانونی کارروائی کی وارننگ بھی جاری کی گئی۔
صوبائی وزیر اور چیئرمین بلوچستان فوڈ اتھارٹی حاجی نور محمد دمڑ نے واضح کیا کہ عوامی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاوٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے اور اس سلسلے میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔چیئرمین بی ایف اے نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق ڈیری مصنوعات میں ملاوٹ کے خاتمے کے لیے بی ایف اے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف کوئٹہ بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی ملک ٹیسٹنگ مہم کے تحت دودھ اور دہی کے معیار کی سخت جانچ کی جا رہی ہے تاکہ عوام کو خالص، معیاری اور صحت بخش خوراک فراہم کی جا سکے۔