ہندوستان کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا،گورنر بلوچستان

0

سبی(اے این این ) سبی بلوچستان کی تاریخ کا وہ خطہ ہے جس نے ہمیشہ سیاسی، سماجی اور قبائلی سطح پر کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ سبی تاریخی طور پر جرگوں کا مرکز رہا ہے، جہاں قبائل کے درمیان تنازعات اور مسائل جرگہ سسٹم کے ذریعے حل کیے جاتے رہے ہیں۔ بلوچ ثقافت میں جرگہ نہ صرف انصاف کا ذریعہ ہے بلکہ یہ باہمی اتفاق اور یکجہتی کی علامت بھی ہے۔ اس جرگہ روایت کی بنیاد پر آج بھی عوامی مسائل پر بات چیت اور ان کے حل کے لیے گرینڈ جرگے منعقد کیے جاتے ہیں۔ما ضی کی انہی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ روز سبی میں ایک تاریخی گرینڈ جرگے کا اہتمام کیا گیا۔ جرگہ میں اہم اعلیٰ شخصیات گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ، کور کمانڈر 12 کور راحت نسیم احمد خان ، رکن قومی اسمبلی میاں خان بگٹی ، صوبائی وزیر انڈسٹریز اینڈ کامرس سردار کوہیار خان ڈومکی ، صوبائی وزیر کمیونیکیشن اینڈ ورکس سلیم کھوسہ ، رکن صوبائی اسمبلی عاصم کرد گیلو ، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان ، ائی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل عابد مظہر ، ائی جی پولیس محمد طاہر اور قبائلی عمائدین ، معتبرین کی کثیر تعداد بھی شریک تھی

گورنر بلوچستان کا خطابگرینڈ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ جرگہ بلوچ ثقافت کا ایک لازمی جزو ہے اور اس روایت نے ہمیشہ عوام کو مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ ڑوب سے شروع ہوا اور آج سبی تک پہنچا ہے، جہاں عوام اپنے مسائل کھل کر بیان کر سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ ڑوب میں بھی ریاست مخالف قوتوں نے لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کی، لیکن عوام نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا، وہ شروع دن سے پاکستان کے خاتمے کے درپے ہے۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ ہمیں کسی کے آلہ کار نہیں بننا چاہیے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو پاکستان کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ انہوں نے طلباءکے لیے سہولیات، فیسوں میں رعایت اور اسکالرشپس کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ اقدامات ان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان کا خطابگرینڈ جرگے کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حقوق کے نام پر مسلط کردہ جنگ نے سب سے زیادہ بلوچ عوام کو متاثر کیا ہے، حالانکہ اس کا حقوق و محروم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ محض دہشت گردی ہے جس کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے نوجوانوں اور قبائلی عمائدین سے کہا کہ وہ زمینی حقائق کو تسلیم کریں اور یہ سمجھیں کہ پاکستان ہی بلوچستان کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو نوجوانوں کی گمراہی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور کہا کہ دشمن پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست مخالف سمت میں لے جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ہے جو نوجوانوں کو اکسفورڈ اور ہاورڈ جیسی یونیورسٹیوں تک رسائی فراہم کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف دشمن قوتیں انہیں دہشت گردی کی تاریکیوں میں دھکیل رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے خواتین، اقلیتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت ان کے لیے عملی منصوبے بجٹ میں شامل کر چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خواتین کا احترام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ایک اچھے شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے سب کو ائین پاکستان کی پاسداری کرنی چاہیے عوامی سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا جن میں:محکمہ صحت میں ڈاکٹروں اور 30 سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بھرتی،سبی-تلی اور کوئٹہ-سبی روڈ پر کام کا آغاز،تین ارب روپے کی لاگت سے سیٹلمنٹ پراجیکٹ،میر چاکر خان رند یونیورسٹی کے لیے بس کی فراہمی،خواتین کے لیے پارک، آئی ٹی سیکٹر اور لائبریری کا قیام، طلباءکو آسان اقساط پر اسکوٹیاں دینے کا منصوبہ، اور سبی ڈویژن پر ڈاکومنٹری بنانے والے طلباءکے لیے 8 لاکھ روپے انعام شامل ہیں۔ کور کمانڈر 12 کور کا خطاب اس موقع پر کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے

کہا کہ یہ ملک عوام کے لیے ہے اور حکومت عوام کی خدمت کے لیے موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی (DCC) کا نفاذ ہو چکا ہے جس کے ذریعے عوامی مسائل ضلعی سطح پر حل ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے بی ایریاز کو اے ایریاز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے عوامی تحفظ میں اضافہ ہوگا۔ کور کمانڈر نے سبی-کوئٹہ روڈ کی توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی تعاون سے صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔سبی میں منعقدہ اس گرینڈ جرگہ نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ جرگے بلوچ ثقافت کی جڑ ہیں اور آج بھی عوامی مسائل کے حل کا موثر ذریعہ ہیں۔ گورنر بلوچستان، وزیراعلیٰ اور کور کمانڈر کے خطابات نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان اور پاکستان کا مستقبل ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور کسی بھی ریاست مخالف پروپیگنڈے کو عوامی اتحاد سے ناکام بنا دیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.