ایک اور یورپی ملک نے فلسطین کو تسیلم کرنے کااعلان کردیا

0

(ویب ڈیسک)لکسمبرگ بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرلے گا،عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان لکسمبرگ کے وزیراعظم لک فریڈن نے اپنے بیان میں کیا۔لکسمبرگ کے وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان حالات میں یورپی ممالک کے پاس فوری اور پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔
ایک اور یورپی ملک لکسمبرگ نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہونے والے اجلاس میں وہ بھی دیگر ممالک کی طرح فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلے گا۔انھوں نے کہا کہ غزہ میں حالیہ مہینوں کے دوران حالات شدید بگڑ چکے ہیں، قحط، نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملیں۔وزیراعظم لک فریڈن نے مزید کہا کہ ہم بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح 23 ستمبر کو ہونے والے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے والوں میں شامل ہوں گے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی انتہاپسند حکومت نے دھمکی دی کہ اگر ایسا ہوا تو وہ مغربی کنارے کے بیشتر علاقوں کو ضم کر لے گی۔
انھوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں فلسطین کے دو ریاستی کے حل کے لیے سرگرمیاں تیزی سے بڑھ گئی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں مزید 17 ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔واضح رہے کہ اس وقت اقوام متحدہ کے 193 میں سے 147 رکن ممالک فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بیلجیئم اور مالٹا بھی یہی اعلان کر چکے ہیں جب کہ پرتگال کی حکومت بھی اس پر غور کر رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.