اگر میں صدر ہوتا تو نہ غزہ جنگ ہوتی نہ روس یوکرین ٹکراؤ، ڈونلڈ ٹرمپ
غزہ جنگ فوری طور پر بند ہونی چاہیے، امریکا سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
نیو یارک(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی فوجی اور سیاسی تعلقات کے باوجود امریکا غزہ جنگ بندی کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ جنگ فوری طور پر ختم ہونی چاہیے کیونکہ اس نے 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جان لے لی ہے اور دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ پہلے ہی صدر ہوتے تو نہ غزہ اسرائیل جنگ چھڑتی اور نہ روس یوکرین آمنے سامنے آتے۔ انہوں نے اپنے پیش رو جو بائیڈن کو عالمی بحرانوں کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ سابق ڈیموکریٹ حکومت نے امن کے مواقع ضائع کیے۔
امریکی صدر نے یرغمالیوں کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں تمام 20 یرغمالیوں کو زندہ اور 38 یرغمالیوں کی لاشیں واپس لانا ہوں گی، مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔”
ٹرمپ نے مغربی ممالک کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ عمل حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے جس سے خطے میں مزید بداعتمادی بڑھے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی امیگریشن دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جو معاشی و سماجی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔