بلوچستان بھر میں دو ہفتے سے چینی سے لدے ٹرکوں کو روکے رکھنا کسٹم حکام کی زیادتی ہے، آصف ترین
کوئٹہ پرمٹس کے باوجود چیک پوسٹوں پر کسٹم کی من مانی، شوگر ڈیلرز کو کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے، 2 ہفتوں سے چینی سے بھرے ٹرکوں کو غیر قانونی طور پر چیک پوسٹ پر روکنا ظلم ہے اگر ہنگامی بنیادوں پر تاجر برادری کے چینی کے حوالے سے مسائل حل نہ کیے تو بھرپور احتجاج کریں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان، چیف جسٹس آف بلوچستان، چیف سیکرٹری سے معاملہ حل کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ بات پشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری بلوچستان کے پیٹرن ان چیف اور ایگزیکٹو ممبر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری محمد آصف ترین نے شوگر ڈیلرز کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک تو پہلے سے بلوچستان تمام تر وسائل سے محروم و مسائل کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود تاجر برادری جن مشکل حالات میں لیگل کاروبار کررہی ہے، ان پر بھی کاروبار کے دروازے بند کیے جارہے ہیں، 10 سے 15 جولائی کے دوران معمول کے مطابق شوگر ڈیلرز کو انڈسٹریز و کامرس ڈیپارٹمنٹ سے پرمٹس جاری کیے گئے لیکن ڈیلرز کے چینی سے بھرے ٹرکوں کو کسٹم عملے نے تمام چیک پوسٹوں پر روکا ہوا ہے۔ انڈسٹریز اور کامرس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایکسٹینشن اور ویریفکیشن لیٹرز جاری کرنے کے باوجود 2 ہفتوں سے چینی سے بھرے ٹرکوں کو روکا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں کلیکٹر عرفان الرحمن خان، ایڈیشنل کلیکٹرز عمیر شفیق، حسیب خان اور تمام متعلقہ افسران سے بات کرنے کے باوجود تاہم کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ شوگر ڈیلرز کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے لیکن متعلقہ اداروں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ ہم وزیراعلیٰ بلوچستان، گورنر بلوچستان، چیف جسٹس آف بلوچستان اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ تاجر برادری کا یہ جائز و دیرینہ مسئلہ حل کیا جائے بصورت دیگر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔